Super User Written by  Dec 18, 2018 - 787 Views

سائٹ لمیٹڈ : تحقیقاتی ادارے بے نامی پلاٹ کی تحقیقات کریں

کراچی: ٹرانسپرنسی لیبرپاکستان کوانتہائی باوثوق ذرائع نے نشاندہی کی ہے کہ جس طرح اب سندھ کے کونے کونے سے اربوں روپے کے بے نامی بینک اکاﺅنٹس ظاہر ہورہے ہےں اورملکی تحقیقاتی اداروں نے یکے بعد دیگرے بے شمار بینک اکاﺅنٹس منظرعام پر لاکر ملک دشمنوں اورمنی لانڈرنگ کے مکروہ چہرے بے نقاب کیے،اب ملک کے ان دوبڑے ذمہ دار اداروں پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ دونوں ادارے مستقل کاروائی کرکے نوری آباد،سپرہائی وے اورسائٹ کراچی کے قیمتی اربوں روپے کے پلاٹس کی ون بائی ون فائل کی انکوائری کریں اور تمام انڈسٹریل پلاٹس کے مالکان کی باریک بینی سے انکوائری کرائیں توذرائع کے بقول ملک دشمنوں کے ملازمین،ڈرائیور ،چوکیداروں کے نام پرپلاٹ نکلیں گے یہی نہیںبلکہ ان پلاٹوں کی الاٹمنٹس کے پیچھے چھپے سائٹ لمیٹڈکے وہ کرپٹ افسران بھی بے نقاب ہوجائیں گے جنہوں نے ہمیشہ سابقہ ادوار کے وزراءاورحکومتوں کے ساتھ ملکر سائٹ لمیٹڈکی اینٹ سے اینٹ بجاڈالی اور جعلی ترقیوں کی بناءپر ہر وہ کام کیا جسکا قانون منع کرتارہاہے

 آج اربوں روپے کے قیمتی83 پلاٹس ہی کی سپرہائی وے کی تحقیقات کی جائے تو حقیقت سامنے آجائےگی مگر یہ انکوائریاں کسی بھی ایم ڈی نے کیوں نہیں کی اسکی وجہ مک مکاﺅ اور اوپر والوں کا دباﺅ تھاہر آنے والے ایم ڈی نے کرپشن پر آنکھیںبند رکھیں جب انکی کرپشن کو منظرعام پر لانے کےلئے روزنامہ کامریڈ کراچی نے جہادشروع کیا تو سائٹ لمیٹڈ میں کرپشن کے ماسٹرمائنڈ ایک ڈائریکٹر سیکورٹی نے کامریڈاخبار کی سائٹ لمیٹڈ میںانٹری بند کردی اور یہ کامریڈ کی انتظامیہ کےلئے کارگرثابت ہوئی

۔روزنامہ کامریڈ کوملنے والے تمام شواہد کی دستاویزات اب تحقیقاتی اداروں کو بھیجی جانے لگیں آج بھی تحقیقاتی اداروں کےلئے سائٹ لمٰٹڈ میں ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن کے دستاویزات کامریڈ کے پاس محفوظ ہیں جو ٹرانسپرنسی لیبرپاکستان کے ساتھ ملک کر آصف زرداری اینڈ فیملی کے خلاف حتمی فیصلے آنے کے فوری بعد تحقیقاتی اداروں کے سپرد کردی جائیں گیںتاکہ تحقیقات شفاف اندازمیں چلائی جاسکے اورملوث کرپٹ افسران جنہوں نے سیاسی چھتری میں پناہ دے رکھی ہے ان کے گرد گھیرا تنگ کردیاجائے اوربے نقامی اربوں روپے کے پلاٹس کی بھی نشاندہی جلد ہوسکے گی۔اگر ان سیاسی چھتری میں پناہ لینے والے افسران کو کچھ دن حکومت کا مہمان رکھا گیا تو ایسے انکشافات ہونگے جنکی اداروں کو بھی حیرانگی ہوگی اور ان افسران کا بھی پتہ چل سکے گا جنہوں نے دہری شہریت رکھ کربھی جھوٹے حلف نامے بھردیے ہیں
Top
We use cookies to improve our website. By continuing to use this website, you are giving consent to cookies being used. More details…