Super User Written by  Mar 20, 2019 - 9 Views

کمشنر سیسی حیدرآباد کے غیررجسٹرڈ شادی ہالوں،اسکولز،ہوٹلز کی رپورٹ طلب کریں

حیدرآباد: کمشنر سیسی حیدرآباد میں غیر رجسٹرڈ ان تمام انڈسٹریز ،شادی ہالوں،ہوٹلز ودیگراداروں کے بارے میں فوری رپورٹ طلب کریں کہ حیدرآباد میں رجسٹرڈ اداروں اور ان میں ورکرز کی تعداد کیاہے تاکہ پتہ چلایاجاسکے کہ حیدرآباد آج کس نہج پر کھڑاہے۔

 حیدرآباد کی مزدور تنظیموں نے لیبرنیوز سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ حیدرآباد ،لطیف آباد،قاسم آباد میں سینکڑوں شادی ہالوں،ہوٹلز اور پرائیویٹ اسکولز وکالجز سے بھراہواہے مگر افسوس کہ کوئی بھی سیسی میں رجسٹرڈ نہیں جہاں ہزاروں ورکرزاپنی خدمات انجام دے رہے ہےں جو کارڈ زسے محروم ہیں جبکہ ایک کلرک جعلیSOSبن کر پورے حیدرآباد ،لطیف آباد اور قاسم آباد سے ان ہالوں اور ہوٹلز ،بیکریوں سے بھتہ اکھٹا کررہاہوتاہے ۔
مزدور تنظیموں نے یہ بھی بتایا کہ ایک حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے موجودہ جی بی کے ممبر نے غیر رجسٹرڈ انڈسٹریزکو پہلی بار سیسی میں رجسٹرڈ کراکے ورکرز کے کارڈ بھی جاری کرائے گوکہ جی بی ممبر نے اس
سلسلے کو فوری روکنا پڑا جسکی وجوہات سامنے نہ آسکیں،اگر یہ سلسلہ جی بی ممبر کی جانب سے جاری رہتا تو بہت سی انڈسٹریز اور ورکرز رجسٹرڈ ہوچکے ہوتے۔
مزدور تنظیموں نے کہا کہ آج بھی ہزاروںورکرز سیسی میں صرف بھتہ گیری کی وجہ سے رجسٹرڈ نہیں ہورہے جبکہ ڈائریکٹریٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ آج کل یونین آفس پر بدقماش لوگوں کا قبضہ ہے جنکا یونین سے بھی تعلق نہیں بلکہ دھونس دھاندلی کے ذریعے یونین آفس کو اپنے گھناﺅنے عزائم کو پوراکرنے کےلئے استعمال کرکے یونین کی ساکھ کوخراب کیاجارہاہے اب یہ یونین کے ذمہ داروں پر فرض عائد ہوتاہے کہ وہ حیدرآباد یونین آفس میں بدقماش لوگوں کا داخلہ بند کرے اگر ایسانہیں کیاجاسکتا تو وقتی طور پر یونین آفس کو بند کردیں تاکہ یونین کی بدنامی نہ ہوسکے کیونکہ بہت سی غیبی غیرموثر قوتیں سی بی اے یونین کی مخالفت میں لگی ہوئی ہےں اب یونین کے ذمہ داران کو بھی چاہیے کہ وہ ملازمین کے دیرینہ مسائل اور جووعدے کیے ہیں انکی تکمیل کرائے یونین ایک حسا س معاملہ ہوتاہے جس کو فوری حل کرنے کی ہمیشہ ضرورت محسوس رہتی ہے جب معاملات رک جائیں تو بغاوت جنم لینا شروع کردیتی ہے جس کے اچھے نتائج مرتب نہیں ہوئے پھر افواہوں کی کہانیاںجنم لیناشروع ہوجاتی ہے۔اور ایک وقت نہ ختم ہونے والے مسائل جنم لے لیتے ہیں۔
Top
We use cookies to improve our website. By continuing to use this website, you are giving consent to cookies being used. More details…