Super User

Super User

وزیرمحنت مرحوم ملازمین کے بچوں کی بھرتیاں ازخود مانیٹرکریں،کمیشن

کراچی: لیبررائٹس کمیشن آف پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ وزیرمحنت سندھ کا سیسی کے مرحوم ملازمین کے بچوں کو روزگار دینا وہ بھی رمضان المبارک میں ایک بڑا فیصلہ اور نیب شگون ہے۔اگر وزیرمحنت نے مرحوم ملازمین کے بچوں کو نوکریاں دینے کا فیصلہ ہی کرلیا ہے تو وہ یہ عمل2007سے شروع کریں کیونکہ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ2007کو ہی دیا تھا اورحکومت سندھ نے بھی مرحوم ملازمین کے بچوں کو نوکریاں بھی 2007میں ہی دینا شروع کی تھیں مگر سیسی انتظامیہ اس نوٹیفکیشن سے بھی بے خبر رہی یاادارے نے کوئی پالیسی ترتیب نہیں دی دیرآمد درست آمد۔

ترجمان نے کہا کہ آج اگر وزیرمحنت نے یہ کام کرہی لیاہے تو یقینا بہتر قدم ہے مگر اس قدم کو اٹھانے سے پہلے تقرریوں کا وہ حشر جو146ویں میٹنگ میں گورننگ باڈی کی منظوری کے بعد 86لیڈی اٹینڈنٹ /آیا اور242ڈیلی
ویجز ملازمین کو آنکھیں بندکرکے نوکریاں مستقل کرنے کی منظوری دی گئی لگتاہے گورننگ باڈی نے تمام حقائق جانے بغیر طاقت کے نشے میں احکامات جاری کردیے تھے آج یہی احکامات انکوائری کے دوران گورننگ باڈی کے گلے میں پڑنے جارہے ہےں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بتایاجائے کہ86خواتین اور242 ورکرزکے علاوہ22مئی2017کو 6چوکیدار30-03-17کو دو چوکیدار دسمبر2017کومیڈیکل میں دوچوکیدار کو کس کی منظوری سے تقررکیا گیاتھا کیا گورننگ باڈی نے338ملازمین کا سابقہ ریکارڈ،انکی تنخواہوں کے واﺅچر یابینک ریکارڈ چیک کیا تھا اگر چیک نہیں کیا تو گورننگ باڈی کو بغیر چیک کیے کس نے اختیارات دیے تھے کہ مزدوروں کے فنڈز پر ڈاکہ ڈالاجائے۔سیسی مزدوروں کے فنڈز پر چلنے والا ادارہ ہے کسی کی جاگیرنہیں کہ جو کاغذگیا اس کی تصدیق کیے بغیر اس پر دستخط کردیے آج گورننگ باڈی اور سیسی کو338وہ افراد جو2017میں تقرر کیے ایک ایک فرد کاجواب دیناپڑیگا سابقہ صورتحال کے پیش نظر وزیرمحنت اس بارسخت چیکنگ کے بعد مرحوم ملازمین کے بچوں کو انکا حق دلوائیں اور اپنے اللہ کو راضی کریں کیونکہ اسطرح کی چالاکیاں سابق وزیرمحنت امیرنواب کے دورمیں بھی ہوئی تھیں جب جعلی ڈگری ہولڈرز ڈاکٹرکوتقرر کرلیاگیاتھا یہ تمام شواہد ریکارڈ پر موجود ہیں وقت آنے پر ظاہر بھی کیے جاسکتے ہیں۔2017میں ہونے والی جعلی بھرتیاں دراصل گورننگ باڈی کے جعلی ممبران کی وجہ سے منظوری ہوئی کیونکہ کسی ممبر کو نہ پڑھنا آتا تھا نہ ریکارڈ کاعلم تھا انہوں نے یہ بھی نہیں دیکھاکہ لسٹ میں سیسی کے کن کن افسران،ڈاکٹرز کے خاندانوں کے بچے لسٹ میں ڈال کر انہیں تقررکیا گیا اور وہ ملازمین آج کس پوزیشن میں ہیں اور انکو تنخواہیں کس طرح دی جارہی ہیں اب یہ پنڈورابکس کھلنے جارہاہے

حکومت نجی شعبے کے فروغ کیلئے پر عزم ہے :وفاقی سیکریٹری تجارت

لاہور ( کامرس رپورٹر) وفاقی سیکرٹری تجارت سیکرٹری سردار احمد نواز سکھیرا نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کے فروغ کے لئے بھرپور طور پر پر عزم ہے تاکہ وہ قومی معیشت کے فروغ اور برآمد میں اضافہ میں کردار ادا کر سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان فرنیچر کونسل (پی ایف سی) کے چیف ایگزیکٹو اور فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی ( ایف آئی ای ڈی ایم سی) کے چیئرمین میاں کاشف اشفاق سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سردار احمد نواز سکھیرا نے کہا کہ حکومت برآمد کنندگان کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی اور برآمدات کے فروغ کیلئے پالیسیاں بنائے گی۔

نئی اقتصادی اصلاحات کے طریقہ کار پر غور جاری ہے جس میں کاروباری آسانیاں، ریگولیٹری اصلاحات اور برآمدات میں بہتر مسابقت شامل ہیں اور امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان جلد ان اصلاحات کا اعلان کریں گے۔ پاک چین آزادانہ تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے ایف ٹی اے میں گھریلو صنعت کے لئے کوئی مناسب تحفظ نہیں تھا اس لئے وزارت نے دوسرے ایف ٹی اے میں مقامی صنعت کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی ہے جو پاکستانی صنعتوں کے لئے اچھا شگون ہے۔

آصف میمن نے سیکریٹری بورڈ کے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں

کراچی: سندھ ورکرزویلفیئربورڈ کی طویل عرصے سے یہ تاریخ رہی ہے کہ سابقہ ڈی جی ورکرزبورڈ ظفرسلیم کی شہادت کے بعد بورڈ اصل صورت میں واپس تاحال نہیں آیا ظفرسلیم کے بعد بے شمار سیکریٹری تعینات ہوئے چند دن یا چند مہینے گزارے اور تبادلہ ہوگئے البتہ آصف میمن سابقہ سیکریٹری بورڈ بھی تعینات رہے مگر اپنی قابلیت سے ورکرزویلفیئر فنڈز سے بورڈ کےلئے زیادہ سے زیادہ فنڈز نکلوانے میں کامیاب ہوئے جو کسی بورڈ کے سیکریٹری نے فنڈز حاصل نہیں کیے ۔

یہی وجہ تھی کہ عرصہ دراز سے بورڈ کے رکے ہوئے پروجیکٹس ایک بار پھر شروع ہوئے اور اب شاید تکمیل کے مراحل میں ہیں اب ان کے دوبارہ چارج لینے کے بعد امید کی جارہی ہے کہ وہ بورڈ میں ہونے والی کروڑوں روپے کی کرپشن کو روکنے کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے وہ مسائل جو2006سے تاحال حل نہیں ہوئے وہ فوری طور پر پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے اور ساتھ ہی میڈیکل کی جوسہولیات عرصہ دراز سے بندہیں انکی بحالی میں بھی پیش رفت کریں گے آصف میمن کے آنے کے بعد بورڈ میں کچھ امید کی کرن روشن ہوئی ہے۔

 قوی امید ہے کہ آصف میمن اس بارظفرسلیم کی کمی کو پوراکرتے ہوئے بورڈ کومضبوط اورخوشحال بنائیں گے اب انہیں بہت چیلنجز کا سامنا کرناہوگا ڈیتھ گرانٹ،میرج گرانٹ،اسکالرشپ میںابھی سے لوٹ مار شروع ہوچکی ہے اس کو روکنا ہوگا نئے فلیٹوں کی الاٹمنٹ میں جعلی ورکرزکو روکنا ہوگا کیونکہ پہلے ہی سکھر اور ٹھل ،میرپور ماتھیلو میں ہونے والے فراڈ کے کیسز ایک این جی او وزیراعظم پاکستان،چیئرمین نیب،ڈی جی ایف آئی اے کے ذریعے انکوائری کراناچاہتی ہے جسکا پورا کنٹرول اسلام آباد سے کیے جانے کی امید ہے یہ وہ چیلنجز ہےں جس کا آصف میمن کو خندہ پیشانی سے مقابلہ کرناہوگا۔

Minister promises instant payment to wheat farmers

Sargodha: Punjab Minister for Labour and Human Resources Ansar Majeed Niazi said the PTI-led government was ensuring payment to wheat farmers within 24 hours.

He said it was for the first time that farmers were getting their payment within 24 hours. Earlier, the farmers had to face a lot of problems due to various reasons, he maintained.

The government was providing opportunities to farmers and safeguarding their rights, he said adding that time had come for establishment of a green and clean Pakistan.

Talking to farmers at wheat purchase centres in Asianwala, Hilalpur and Sial Mor, the minister said the government had made all arrangements for ensuring transparency in wheat purchase process.

He said farmers were also expressing satisfaction over the PTI government’s initiatives taken in this regard.

The minister directed the food department to ensure purchase of wheat from growers through computerised weighing machines at purchase centres.

No one would be allowed to store wheat, he said and warned for strict action against those violating the government instructions in this regard.

30 drivers challaned: Secretary District Road Transport Authority (DRTA) Monday challaned 30 drivers over violation of traffic rules and impounded five vehicles.

According to a press release, DRTA Secretary Farooq Haider Aziz visited Bhagatwala-Lahore Road and challaned 30 drivers, imposed Rs 15,000 fine on them and impounded five vehicles.

UK Labour leader expresses concern over Pak-IMF contract

London: Labour leader and opposition leader in the House of Commons Jeremy Corbyn has expressed reservations at the deal signed by Pakistani government with the International Monetary Fund (IMF), saying that such deals don’t benefit ordinary people.

In an exclusive interview with this correspondent, the Labour leader said he has always expressed his reservation at such deals. He was attending Iftar dinner at the Islamic Centre to show support for Muslim communities during the Holy Month of Ramazan.

“What can resolve the issue of poverty around the world is fairer trade, dealing with the debt crisis that many countries face and investment in agriculture and industrial systems for the future and dealing with the issues of climate emergency.

I am always concerned when arrangements are made particularly…what the terms are of those arrangements because we need a world in which there is less poverty, and a faire distribution of wealth and power,” said the Labour leader.

The Labour leader said he was glad that his party has adopted the definition of Islamophobia as presented by the All-Party Parliamentary Group (APPG) on British Muslims.

He said racism is unacceptable in any shape and form in any society. “We have adopted the definition of Islamophobia because we believe that Islamophobia is a form of racism. It’s a nasty form of racism and has to be outlawed.

The govt is delaying on it and I urge them to recognise what’s happening on the streets of our country when mosques are abused and attacked, when Muslim women are abused on the streets.
We need definition of Islamophobia in operation so our police and all of our law enforcement agencies are fully aware that this country doesn’t accept any form of abuse against people because of their faith and
their clothes.”

Corby condemned the rise of hate in Britain, especially during the European Union elections. “There is a disgraceful rise of far-right extremism in UK and various parties and some election candidates are trying to divide people and being abusive towards Muslim people. The language used is disgraceful and disgusting.”

He said that he keeps reminding people that similar language was used against Jews in 1920s and 1930s and they suffered and today similar language is being used against Muslims by the far-right.

“The abuse of any ethnic group or any community is unacceptable. Labour is campaigning in this election as we did in 2016 on economic issues. We need investment in poor parts of our country. We cannot go with under-funding of our services, our schools and hospitals. Jeremy Corby gave a robust defence of Labour’s decision to try to appeal to both leavers and remainders’.

“Labour supporters voted both leave and remain, and every other party in this European election is appealing to either one side or the other, defining everybody on 2016. We’re not. We’re defining people as hopefully supporters of us – but also, people who have common problems, however they voted. The levels of poverty in remain and leave areas are very similar; the levels of child poverty. I think we have to be responsible about this, and appeal to people across those views.”

سیسی میںسالہاسال سے افسران ایک ہی ڈائریکٹریٹ میں براجمان ہیں

کراچی: حکومتی اداروں میں تقرریوں وتبادلوں کاایک اصول مقرر ہے مگر سیسی میں تمام قانون وقواعد کو بالائے طاق رکھ کرکمشنر سیسی کے ماتحت افسران نے اپنا ہی قانون نافذکررکھاہے آج سیسی کے ڈائریکٹریٹس میں فیلڈ افسر پانچ پانچ،چھ چھ سال سے ایک ہی ڈائریکٹریٹ میں براجمان ہے اگر کبھی تبادلوں کی ضرورت بھی محسوس ہوئی تو صرف بیٹ یا ٹیبل بدل دی جاتی ہے

یہ عمل صرف اس وجہ سے کیاجاتاہے کہ یہ مراعات صرف ان ہی افسران کو دی جاتی ہیں جو ڈائریکٹرز کےلئے زیادہ سے زیادہ بھٹہ اکھٹا کرتے ہیں یہ افسران اداروں میںکماﺅ پوت کے نام سے جانے جاتے ہیں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قانون کے مطابق جو افسران تین سال سے زائد کسی ڈائریکٹریٹ میں تعینات ہیں انہیں فوری طور پر ایک ڈائریکٹریٹ سے دوسرے ڈائریکٹریٹ بلکہ زیادہ کمانے والے کماﺅ پوتوں کا تبادلہ اندرون سندھ کیاجائے تاکہ انہیں بھی معلوم ہوسکے کہ سروس کرنے میں کیا کیا کمالات دکھانے پڑتے ہیں کمشنر سیسی تمام ڈائریکٹریٹس میں تعینات افسران کی فہرست طلب کریں اور جو یہ افسر تین سال سے زائد کسی بھی ڈائریکٹریٹ میں تعینات ہے انکا فوری تبادلہ کرکے دوسرے ڈائریکٹریٹ میں تعینات کیاجائے تاکہ سیسی کی کارکردگی بہتر ہوسکے۔

دوئم کمشنر سیسی کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ گزشتہ کئی سال سے سابقہ نااہل انتظامیہ کی وجہ سے غیرقانونی آڈٹ اینڈ اکاﺅنٹس افسران پر غیرقانونی بھاری رقم تنخواہوں کی مد میں دی جارہی اور ساتھ ہی گزشتہ دو سالوں میں جوغیرقانونی بھرتیاں ہوئی ہیںان کی مد میں بھی لاکھوں روپے تنخواہوںکی مد میں دیاجارہاہے جسکی کوئی پڑتال آج تک نہیں ہوسکی۔جسکی انکوائری ادارہ تونہیں کرسکا البتہ نیب نے ضرور انکوائری شروع کردی ہے مگر اتنی بڑی رقم توغیرقانونی دی جارہی ہے اگر پیسہ نہیں ہے تو ادارے کے پنشنرز کو انکا حق نہیںدیاجارہا جبکہ متاثرہ پنشنرز نے کئی بار کمشنر کو خطوط لکھے، نہ جانے وہ کونسی قانونی مجبوریاں ہیں کہ ادارہ ان پنشنرز کو ادائیگی کرنے سے قاصر ہے اگر کوئی قانونی لفافے مداخلت نہیں کررہے کہ ان پنشنرز کو بھی پنشن دی جائے جوعرصہ دراز سے پنشن کے انتظار میں بیٹھے مزید بوڑھے اور طرح طرح کی بیماریوں نے انہیں گھیر رکھاہے

اب یہ کمشنر کی صوابدید پر ہے کہ وہ خصوصی توجہ دے کر پنشنرز کے انٹرویوزکریں ان کی آہ پکار سنیں پھر فیصلہ کریں کہ ادارہ انکے مسائل کس سطح پر حل کرسکتاہے۔یہ بھی شنید ہے کہ اکاﺅنٹس کے ایک افسر کی ڈیمانڈ ہے کہ اگر پنشن کابقیہ حصہ لیناہے توپچاس پچاس فیصد پر مک مکا کرکے بقایاجات کی پنشن لی جاسکتی ہے جو کروڑوں میں بنتی ہے کمشنر انکوائری کرناچاہیں تو لیبرنیوز کے پاس وہ ذرائع بھی موجود ہے جن کو اس مک مکاءکےلئے کہا گیا لیبرنیوز خفیہ طور پر کمشنر سے انکا انٹرویو بھی کراسکتاہے کیونکہ اکثر کہاجاتاہے کہ لیبرنیوز کی خبرمیں صداقت نہیں ہوتی دراصل صداقت ہی لیبرنیوز میں ہوتی ہے کیونکہ جب تک تمام شواہد لیبرنیوز کے پاس جمع نہیں ہوجاتے کوئی خبر نہ شائع کیاجاتی ہے نہ وائرل کی جاتی ہے افسران کے لالے کرتوتوں کے تمام شواہد لیبرنیوز کے پاس موجود ہیں اور ایسے بھی چیکوں کی معلومات موجود ہیں کہ چیک کو سیسی کے نام کابنادیاگیا مگر کیش وہ افسران کے پرسنل اکاﺅنٹ میں ہوا اس سے زیادہ اور کیا فراڈ ہوسکتاہے کمشنر کے علم میں لائے بغیر آج بھی بے شمار انڈسٹریز کی انسپکشن مک مکاءکے بعد فائلوں میں بندکردی جاتی ہے اور جس دن نیب نے یہ پنڈورابکس کھولا تو سب کی چینخیں نکل جائیں گیں جب ریکارڈ تمام کرپشن کو اگلے گا۔

لیبرڈائریکٹریٹ حکام کو بھتہ نہ دینے پرایماندار افسر کا سال میں پانچواں تبادلہ

کراچی: لیبرڈائریکٹریٹ کی تاریخ تو کارناموں سے بھری پڑی ہے جسمیں ہر دور میں ہرڈائریکٹر نے اپنے ہی ماتحت ایک ہی افسر کی اجارہ داری قائم رہی ہے اورانسپکشن انڈسٹریز کی ہو یا ہیلتھ اینڈ سفیٹی کے پروگرامز کی تمام کے تمام انسپکشن پروگرامز متعلقہ افسر کی رضامندی کے بغیر دستخط نہیںہوتے اسمیں کیا ماجرہ ہے یہ ڈائریکٹرلیبر ہی بہتر طورپر بتاسکتے ہیں کہ وہ کس دباﺅ کے تحت متعلقہ ماتحت افسر کی خواہشات پوری کرتے ہیں۔

 دوسری جانب لیبرڈائریکٹریٹ کاانتہائی قابل اعلیٰ تعلیم یافتہ بدنصیب افسرجواپنے اعلیٰ افسران کو اس وجہ سے اچھانہیں لگتا کہ جس بیٹ کا وہ افسرہوتاہے وہاں سے بھتہ آنا بندہوجاتاہے گویا ہرڈویثرن کو ایسے افسران کی ضرورت رہتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوٹ مار کریں کرپشن کریں۔اپنا بھی پیٹ بھریں اور اپنے اعلیٰ افسران جو جوائنٹ ڈائریکٹر سے شروع ہوکر سیکریٹری تک جوخواہشات ہوتی ہیںانکو پوراکرے اس دوڑ میں صرف یہی افسر پیچھے رہ جاتاہے جس کو کوئی بھی ڈویثرن اس وجہ سے قبول نہیں کرتا کہ بھتہ اکھٹانہیں کرتا ۔

یہی وجہ ہے کہ انتظامی امور کے کرتادھرتا بھی فرمائشوں پر تبادلے کرتے رہتے ہیں اور شاید یہ افسر پاکستان کاواحدافسر سمجھاجاتاہے کہ ایک سال میں پانچ مرتبہ تبادلہ ہوتا رہا کیا قانون اس کی اجازت دیتاہے کہ اعلیٰ افسران اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اپنے ماتحت افسر کوایک سال میں پانچ بار تبادلہ کریں یہ اختیارات کاناجائز فائدہ اٹھایاجارہاہے تبادلہ کرنے والوں کو یہ بھی دیکھ لیناچاہیے کہ جو افسران تین سال سے زیادہ طویل
عرصہ دراز سے مختلف ڈویثرنز میں لوٹ مار کررہے ہےں وہ ڈویثرن انہوں نے اپنی میراث سمجھ رکھاہے تبادلہ کرنے والوں کو یہ دکھائی نہیں دیتا ۔

سب کوسب کچھ علم ہے مگر دال میں کالے کی وجہ سے تبادلہ کرنے ہمت نہیںہوتی۔اور آج ریٹائرہونے والے افسران وملازمین بھی ادارے کوچلارہے ہیں کیونکہ موجودہ قیادت کو کچھ نہیں معلوم کہ قانون یاخط وکتابت کیاہوتی ہے ان کو توصرف قائداعظم پیارا ہے اور وہ قائداعظم سے ہی پیارکرتے ہیں۔

حکومت تجارتی اورصنعتی شعبوں کے مسائل سے آگاہ ہے :گورنرپنجاب

لاہور: حکومت تجارتی اور صنعتی شعبوں سے متعلق مسائل سے آگاہ ہے، کاروباری برادری کو سازگار کاروباری ماحول مہیا کرنے کیلئے تمام تر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ مشکل اقتصادی حالات میں مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں لیکن حکومت معیشت کو بہتر کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ملک کی کاروباری برادری مشکل حالات میں اپنا کاروبار کر رہی ہے، ان کو در پیش مسائل کے حل کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں گئے۔

 ان خیالات کا اظہارگورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( ایف پی سی سی ا?ئی) کے ریجنل چیئرمین عبدالرﺅف مختار کی قیادت میں ایف پی سی سی ا?ئی پنجاب کے وفد سے گورنر ہاو?س میں خصوصی ملاقات کے موقع پر کیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ مشکل حالات ضرور ہیں مگر حکومت وزیر اعظم عمران خاں کی قیادت میں کاروباری برادری کیلئے سازگار ماحول بنانے میں کامیاب ہو جائے گئی۔ ایف پی سی سی ا?ئی ملک کی تمام ٹریڈ باڈیز کی واحدنمائندہ تنظیم ہے،وہ اپنے اراکین کو تجارت کے قوانین پر عمل کرنیکی طرف راغب کرئے۔ ایف پی سی سی ا?ئی کے ریجنل چیئرمین عبدالرو?ف مختار نے کہاکہ حکومت ایف پی سی سی ا?ئی کیساتھ ایک خصوصی کیمونیکشن چینل قائم کرئے کیونکہ ایف پی سی سی ا?ئی اپیکس باڈی ہے۔

Pay salary, bonus before 20th Ramadan: Workers

Bangladesh: An organisation of readymade garment workers demanded to pay their wage and festival bonus before the 20th Ramadan.

At a human chain in front of the Jatiya Press Club, the Garments Workers Front (GWF) also demanded an end to lay off workers, attacking and filing cases against them, reports UNB.

They sought exemplary punishment of attackers who tortured GWF Finance Secretary Saiful Islam Sharif.

GWF President Ahsan Habib Bulbul said that the owners do not pay the wages and bonus in due time.

“They pay a meager sum in the eleventh hour. We urge the government to take necessary steps to clear salaries and bonus before the 20th Ramadan,” he said.

GWF General Secretary Selim Mhamud, Vice-President Khalequzzaman Lipon and Joint Secretary Jahangir Alom, among others, spoke at the programme.

UK’s Labour party demands accountability in Sri Lanka

United Kingdom: UK’s Labour party leadership has demanded accountability in Sri Lanka saying a future Labour Government would be committed to the causes of achieving justice and accountability for the Tamil people, as well as recognising their right to self-determination.

“This is a sad occasion because we are commemorating the tenth anniversary of that terrible massacre,” said Labour leader, and Leader of the Opposition, Jeremy Corbyn MP.

“We need a recognition of the atrocities, an end to the ongoing human rights violations, accountability for the mass atrocities,” Corbyn said adding that “a political settlement and acknowledgment of the right of self-determination of the Tamil people is crucial to a sustainable peace.”

He said that human rights violations and the persecution of the Tamil people are ongoing in Sri Lanka. He also said that the ongoing use of torture as a common tactic in Sri Lanka was unacceptable.
Corbyn said that a future Labour Government would use diplomatic pressure and action on trade and arms sales to push for human rights.

“Today we commemorate those who lost their lives at Mullivaikkal those years ago,” Corbyn said. “In their memory and their honour, let’s get justice for those who have committed atrocities,” he said.
The Labour leader also condemned the Easter Sunday attacks as well as the anti-Muslim violence which followed.”

Sen Kandiah, Chair of Tamils for Labour, stressed that no progress had been made in accountability and said the group was calling for the Labour Party to recognise that what happened was genocide.
 
Top
We use cookies to improve our website. By continuing to use this website, you are giving consent to cookies being used. More details…