Super User Written by  Sep 18, 2018 - 9 Views

وزیراعظم سندھ کے محکمہ محنت کی انتہائی کرپشن روکنے کاحکم دیں،ترجمان

کراچی : سندھ لیبرفیڈریشن کے ترجمان نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی توجہ محکمہ محنت سندھ کے اداروں بالخصوص سندھ ورکرزویلفیئربورڈ،سوشل سیکورٹی اور ای او بی آئی میں ہونے والی انتہائی سطح پر کرپشن کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ ان تینوں بڑے اداروں میں حکومت کاایک فیصد بھی حصہ نہیں ہے یہ تینوں بڑے ادارے آجرواجیر کے فنڈز سے قائم ہیں،اداروں کی تشکیل کامقصد مزدوروں کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینا تھا مگر افسوس کہ جب سے یہ ادارے قائم ہوئے ہیں اس دن سے آج تک ان اداروں سے مزدوروں کو آٹے میں نمک کے برابر مراعات ملی ہیں اور پورآٹا ان اداروں کے افسران ہی کھاجاتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ آج ان اداروں کا یہ حال ہوچکاہے کہ کرپشن اتنی انتہائی سطح پر پہنچ چکی ہے جہاں سے واپس آناسول بیوروکریسی کے بس میں نہیں۔بلکہ اداروں کی کرپشن میںسول بیوروکریسی خود اسکا حصہ بنی ہوئی ہے کرپشن سے حاصل ہونے والی کروڑوں روپے کی آمدنی کا یہ حال ہے کہ کسی بھی افسر کو کسی بھی سزا کی فکر ہی نہیں کیونکہ بعض اوقات ان اداروں کی کرپشن کے کیسز سالہا سال سے اینٹی کرپشن،نیب ،ایف آئی اے میںزیرسماعت یازیرانکوائری ہیں مگر مک مکاﺅ کی پالیسی کے تحت آج تک کوئی بھی افسر ماسوائے تین چار کے کوئی پابند سلاسل نہیں ہوسکا،جسکی وجہ سے انکے حوصلے کرپشن کرنے کے لئے مضبوط ہوچکے ہےں۔

ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اب صرف ایک ہی حل رہ جاتاہے کہ ان اداروں کے سربراہان کو سول بیوروکریسی کے حوالے کرنے کے بجائے ریٹائرڈ جج صاحبان یا ملٹری کے جنرلز یا بریگیڈیئر رینک کے افسران کو ان اداروں کی باگ دوڑ دی جائے تاکہ یہ اداارے کسی حد تک کرپشن کو کنٹرول کرسکیں،اور ساتھ ہی اچھی شہرت کی حامل مزدور تنظیموں،فیڈریشنز پر مشتمل ٹاسک فورس بنائی جائے جو زمینی حقائق سے ان سربراہان کو آگاہ کرکے کرپشن کی نشاندہی کرے ان ٹاسک فور س میں لیبررائٹس کمیشن آف پاکستان اور ٹرانسپرنسی لیبرپاکستان کے نمائندوں کو بھی شامل کیاجائے جو پہلے ہی ان تینوں اداروں میں ہونے والی کرپشن کے بارے میں مکمل جانکاری رکھتے ہیں،تاکہ نئے پاکستان میں دیگر اداروں کی طرح مزدوروں کے کرپٹ محکموں میں بھی تبدیلی آسکے اور وہ تبدیلی کرپشن کے خاتمے کے بعد ہی محنت کشوں کی زندگیوں میںانقلاب اور سکون پیداکرسکے گی ۔مزدوروں کے جائز مسائل حل ہوسکیں گے اور یہی نئے پاکستان کی شناخت ہوگی۔
Top
We use cookies to improve our website. By continuing to use this website, you are giving consent to cookies being used. More details…